نئی دہلی،یکم مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) کانگریس نے ہفتے کے روز نریندر مودی حکومت پر عام آدمی کی مشکلات کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی انا چھوڑ یں اور پیٹرول، ڈیزل اور باورچی گیس (ایل پی جی) پر ٹیکس کم کریں۔
کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر بالترتیب 23.78 اور 28.37 روپے فی لیٹر اضافی ٹیکس ہٹائے۔ اس سے ایندھن کی قیمتوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے گجرات کاوزیراعلی رہنے کے دوران دئے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کم کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ وبا کے بعد معیشت میں زوال کے بعد عام آدمی پہلے سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ آچکی ہے۔
سنگھوی نے کہا کہ وزیر اعظم کانگریس کے مطالبے کو نظرانداز کرسکتے ہیں لیکن انہیں کم از کم اپنے بیانات یاد کرنا چاہئے جو انہوں نے مرکز میں یو پی اے کے دور حکومت میں گجرات کے وزیر اعلی کی حیثیت سے دئے تھے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ انہیں ریزرو بینک کے گورنر شکتی کانت داس کے مشورے پر بھی غور کرنا چاہئے کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کا وسیع اثر پڑے گا۔انہوں نے پیٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس ہٹانے کولے کر مخمصے میں رہنے کولے کر وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے بیان کو بھی نشانہ بنایا۔
سنگھوی نے سوال کیا کہ کون سا مذہب بحران اور رکاوٹ ہے کہ وزیر خزانہ بھی اس ٹیکس میں کمی نہیں کرسکتے ہیں، کیا وزیر اعظم انہیں ایسا کرنے سے روک رہے ہیں؟ ۔سنگھوی نے کہا کہ یہ شرمناک بات ہے کہ مئی 2014 کے مقابلے میں خام تیل 39.2 فیصد سستاہے، جبکہ مودی حکومت میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 27.5 اور 42.2 فیصد مہنگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک’الٹا رجحان‘ ہے جہاں عالمی شرحیں کم ہورہی ہیں، لیکن گھریلو قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔